ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / رامائن-مہابھارت پرمبینہ تبصرہ؛ پرشانت بھوشن کی گرفتاری پر عبوری روک،گجرات حکومت سے جواب طلب

رامائن-مہابھارت پرمبینہ تبصرہ؛ پرشانت بھوشن کی گرفتاری پر عبوری روک،گجرات حکومت سے جواب طلب

Sat, 02 May 2020 00:54:21    S.O. News Service

نئی دہلی یکم مئی(آئی این ایس انڈیا)  معروف وکیل پرشانت بھوشن کے اوپر خود ہی مقدمہ ہوگیاہے۔معاملہ مبینہ طور پرمذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کاہے۔ سپریم کورٹ نے اس وقت بھوشن کی گرفتاری پر روک لگا دی ہے۔ گجرات حکومت سے معاملے پر جواب مانگاہے۔

28 مارچ کوپرشانت بھوشن نے دوردرشن پر رامائن اور مہابھارت دکھائے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کیاتھا۔ انہوں نے لکھاتھاکہ کروڑوں لوگ بھوکے ہیں۔سڑک پرہیں۔لیکن مرکزی حکومت کے وزیر رامائن اور مہا بھارت کی افیون کھا رہے ہیں۔ لوگوں کو بھی وہی کھانا کھلانے رہے ہیں۔اس پراعتراض کرتے ہوئے سابق فوجی جے دیو جوشی نے گجرات کے راج کوٹ میں بھوشن کے خلاف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے ایف آئی آر درج کروا دی۔ایف آئی آر IPC کی دفعہ 295A (مذہبی جذبات کوچوٹ پہنچانے والی بات کہنے) اور 505 (لوگوں کو بھڑکانے) کی دفعہ میں درج ہوئی ہے۔اس کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے پرشانت بھوشن نے ایف آئی آر منسوخ کرنے کامطالبہ کیاہے۔ ان کاکہناہے کہ وہ ٹویٹ مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکرکے ایک ٹویٹ کے جواب میں کیاگیاتھا۔ وزیرنے رامائن دیکھتے ہوئے اپنی تصویرلگائی تھی۔میں نے لاک ڈاؤن سے پریشان کروڑوں لوگوں کی حالت کوسامنے رکھا۔ میرا مقصد کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا۔ میں نے مذہب کو لے کر کارل مارکس کی طرف سے کہی گئی بات کو دہرایاتھا۔عرضی میں ٹویٹ کیے جانے کے 15 دن بعد ایف آئی آر درج ہونے پر بھی سوال اٹھایاگیاہے۔کہاگیاہے کہ اس کا مقصد درخواست گزار کو حکومت کے خلاف بولنے سے روکنالگتاہے چونکہ ایف آئی آر خود پرشانت بھوشن کے خلاف ہے۔ لہٰذا، وہ بطور وکیل اس معاملے میں پیروی کرنے نہیں آئے۔ ان کی طرف سے سینئر وکیل دشینت ڈیو اور کامنی جیسوال ججوں کے سامنے پیش ہوئے۔


Share: